Wednesday, 24 April 2013

ائمہِ اہل سنت کی ابوحنیفہ پر جرح


ائمہِ اہل سنت کی ابوحنیفہ پر جرح:

روى ابن عدي في الكامل عن عبد الله بن أبي داود أنه قال: الوقيعة في أبي حنيفة جماعة من العلماء لأن إمام البصرة أيوب السختياني وقد تكلم فيه وإمام الكوفة الثوري وقد تكلم فيه وإمام الحجاز مالك وقد تكلم فيه وإمام مصر الليث بن سعد وقد تكلم فيه وإمام الشام الأوزاعي وقد تكلم فيه وإمام خراسان عبد الله بن المبارك وقد تكلم فيه فالوقيعة فيه إجماع من العلماء في جميع الأفاق

ابن عدی نے کامل میں عبد اللہ بن أبی داود سے روایت کیا ہے کہ : ابو حنیفہ کے بارہ میں امر واقع یہ ہے کہ علماء کا (اس پر جرح کرنے پر) اجماع ہے ۔ کیونکہ بصرہ کے امام ایوب سختیانی ہیں اور انہوں نے بھی اس پر جرح کی ہے ‘ اور کوفہ کے امام سفیان ثوری ہیں انہوں نے بھی اس پر جرح کی ہے ‘ اور حجاز کے امام , امام مالک ہیں انہوں بھی اس پر جرح کی ہے ‘ مصر کے امام لیث بن سعد ہیں انہوں نے بھی اس پر جرح کی ہے ‘ اور شام کے امام اوزاعی ہیں انہوں نے بھی اس پر جرح کی ہے اور خراسان کےامام عبد اللہ بن مبارک ہیں انہوں نے بھی اس پر جرح کی ہے تو امر واقعہ یہی ہے کہ روئے ارض کے تمام تر علماء کا ابوحنیفہ کی مذمت کرنے پر اجماع ہے

الکامل فی الضعفاء ابن عدی 



امام ابن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں:
أَن أَئِمَّة الْمُسلمين وَأهل الْوَرع فِي الدَّين فِي جَمِيع الْأَمْصَار وَسَائِر الأقطار جرحوه وأطلقوا عَلَيْهِ الْقدح

امت مسلمہ کی بزرگ شخصیات نے ہر شہر اورہرعلاقہ سے ابوحنیفہ پرجرح کی ہے اورعلی الاطلاق اس کی مذمت کی ہے۔

کتاب المجرحین ابن حبان 





Friday, 7 December 2012

صحابہ ستارے؟؟؟ معیارِ صحابیت کی وضاحت ضروری ہے.

صحابہ ستارے؟؟؟ معیارِ صحابیت کی وضاحت ضروری ہے...


اہلسنت کے بنیادی عقائد (اصولِ دین) مین صحابہ کا ذکر دور دور تک نہین ملتا جو عقیدہ ان کے اپنے اصولِ دین کا حصہ نہین اس کی بنیاد پر کسی دوسرے مکتبِ فکر کی تکفیر لمحہِ فکریہ ہے کیونکہ فتویِ کفر اصولِ دین کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے اب جو چیز خود اہلسنت کہ اصولِ دین کا حصہ نہین اس کی بنیاد پر کسی دوسرے مکتب کی تکفیر جائز نہین. نہ ایمانِ مفصل و مجمل مین صحا ہ نہ حدیثِ جبرائیل مین.. کلھم عدول کا نعرہ لگانے والے معیارِ صحابیت کی وضاحت کرین ورنہ....

١.فاسق بھی صحابی؟
سورہ حجرات کی آیت ٦ (یاایھاالذین امنو انِ جأءکم فاسق.) یعنی مومنو! ج تمھارے پاس کوئی فاسق خبر لے کرآئے. یہ آیت "صحابی" ولید بن عقبہ کے بارے مین نازل ہوئی جس مین انھین فاسق کہا گیا.

اسبابِ نزول القرآن ابوالحسن الوحدی ص٣٧٤,اسد الغابہ ابن اثیر ج٣ص٣١٩.

جسے قرآن فاسق کہے وہ بھی صحابی... ان کے کارنامون سے تاریخ بھری پڑی ہے حالتِ نشہ مین یہی موصوف امامتِ جماعت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے

٢. ناصبی بھی صحابی؟
امام ابن عبد البر القرطبی نے بھی سیرۃ الصحابہ پر مفصل کتاب "استعیاب فی معرفتہ الاصحاب" لکھی امام عبدالبر نے حضرت ربیہہ بن ولید کو صحابہ کی فہرست مین شامل کرکے فرماتے ہین کہ یہ علی ع سے بغض رکھتے تھے اور ناصبی تھے.

استعیاب فی معرفتہ اصحاب ابن عبد البر ج٣ص٦٣

حدیثِ صحیح کے مطابق بھی امام علی ع کا دشمن منافق ہے.

٣.خارجی بھی صحابی؟
امام ابن اثیر جنھون نے سیرۃ الصحابہ پر ضخیم کتاب لکھی جس مین لگ بھگ ٨٠٠٠ صحابہ کی سیرت موجود ہے. امام ابن اثیر حضرت حرقوص بن زھیر السعدی کے حالات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہین...
کہ یہ جنگِ صفین کے بعد خارجی ہوگئے تھے.

اسد الغابہ فی معرفتہ الصحابہ ابن اثیر ج١ص٥٧١.

٤.جہنمی بھی صحابی؟
امام ابن اثیر نے حضرت مدعم اور حضرت کرکرہ کو صحابہ کی فہرست مین شامل کیا ہے اور بلا اختلاف ان دونون کی صحابیت ثا ت ہے. مگر..
امام ابن اثیر نے حضرت مدعم کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
حضرت مدعم رسول ص کے وہ حبشی غلام ہین جنھین رفاعہ بن زید نے آپ کی خدمت مین ہدیہ کیا انہون نے غزوہِ خیبر مین ایک چادر چرالی تھی اور قتل ہوگئے جس پر رسول ص نے فرمایا: اس چادر نے جہنم کی آگ کو خوب بھڑکایا ہوگا.

حضرت کرکرہ سے متعلق فرماتے ہین:
حضرت کرکرہ صحابی ہین مگر کوئی روایت ان سے ثابت نہین, جب وہ مرے تو رسول ص نے فرمایا: کرکرہ جہنم مین جائے گا لوگون نے جاکر دیکھا تو انہون نے ایک چادر چرالی تھی امام بخاری نے کہا کے ابن سلامہ نے بھی ان کا نام کرکرہ بیان کیا ہے.

اسد الغابہ ابن اثیر حالات: مدعم ج٣ص١٤١ حالات کرکرہ: ج٢ص٨٦٨.

٥.راہِ حق سے منحرف ہوجانے والے بھی صحابی؟
علامہ سعد الدین تفتازانی شرح المقاصد مین فرماتے ہین:
صحابہ کے درمیان چونکہ سخت جنگین ہوئین اور عداوتین واقع ہوئین لہذا پتاچلتا ہے کہ بعض صحابہ راہِ حق سے منحرف ہوگئے تھے,بعض نے بغض و عداوت عناد حُبِ ریاست اور لذتِ شہوانی کی جانب مائل ہونے کی وجہ سے ہر قسم کا ظلم و تعدی کیا بدیہی چیز ہے کہ بہت سے اصحاب چونکہ معصوم نہین تھے لہذا افسوسناک حرکات کے مرتکب ہوئے لیکن بعض علماء نے اپنے حسنِ ظن کی وجہ سے ان کی بداعمالیون کے لیے فضول تاویلین کین ہین.

شرح المقاصد سعد الدین تفتازانی ج٣ص٥٠٩.

جیسے کہ...
امام دارقطنی نے فرمایا: کہ بسر بن ابی ارطاۃ کا صحابی ہونا ثابت ہے مگر یہ آپ ص کے بعد مستقیم نہین رہے.
اسد الغابہ ابن اثیر ج١ص٦٢٢

۶.فتنہ پرداز بھی صحابی؟
امام حسن بصری حضرت مغیرہ بن شیبہ اور ابو موسی اشعری کو فتنہ پھیلانے والون مین شمار کرتے ہین.

تاریخ الخلفاء امام جلال الدین سیوطی ص٢١٠

۷حضرت عثمان کے قاتل بھی صحابی؟

امام ابن سعد فرماتے ہین کہ وہ مصری لوگ جنھون نے حضرت عثمان کا محاصرہ کیا ان کے رئیس عبدالرحمن ابن عدیس کنانہ بن بشیر بن عتاب الکندی اور عمرو بن حمق تھے. کوفے سے دو سو باغی مالکِ اشتر کے ماتحت تھے, اور جو بصرہ سے آئے دو سو آدمی تھے ان کی قیادت صحابیِ رسول حکیم بن جبلہ کررہے تھے.


.عبد الرحمن بن عدیس,حکیم بن جبلہ, اور عمرو بن حمق کا شمار اصحابِ رسول مین کیا جاتا ہے.

امام ابن اثیر نے اسد الغابہ مین اور امام عبدالبر نے استعیاب مین حضرت عبد الرحمن بن عدیس کے حالات مین انہے صحابیِ رسول تسلیم کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ اس لشکر کے امیر تھے جنھون نے عثمان کو قتل کیا.

قاتلینِ عثمان صحابی اور سبِ شیخین کے قائل کافر؟


۸۔غیر عادل صحابہ؟

امام شافعی ٤ اصحاب کی گواہی قبول نہین کرتے تھے جن مین معاویہ, عمرو بن عاص, مغیرہ بن شیبہ, اور زیاد بن ابیہ شامل ہین.

کتاب المختصر فی اخبار البشر عماد الدین ابوالفداء ج٢ص١٠٠.

۹۔باغی بھی صحابی؟

علامہ سعد الدین تفتازانی کہتے ہین کہ اسلام مین سب سے پہلے بغاوت کی ابتداء معاویہ نے کی.

شرح المقاصد ج٣ص٥١٣.

اسی لیے معیارِ صحابیت کی وضاحت ضروری ہے..

دعاگو تابش علی.

Wednesday, 14 November 2012

اسلام کا پہلا باغی


اسلام کا پہلا باغی
علامہ سعد الدین تفتازانی فرماتے پیں کہ اسلام میں سب سے پہلے باغی معاویہ ہیں۔

شرح المقاصد سعد الدین تفتازانی ج۲ ص۳۰۶


Tuesday, 9 October 2012

حضرت عثمان نے قرآن کی آیات میں تبدیلیان کیں؟؟؟



حضرت عثمان نے قرآن کی آیات میں تبدیلیان کیں؟؟؟

حمیدہ بنتِ ابی یونس کہتے ہیں کہ میرے باپ کی عمر ۸۰ سال تھی انھوں نے مجھے بی بی عائشہ کےمصحفِ قرآن سے پڑھ کر سنایا "إِنَّ اللَّہَ وَمَلَائِكَتَہُ يُصَلُّونَ عَلَی النَّبِيِّ يَا أَيُّہَا الَّذِ
ينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْہِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا وعلی الذین یصلون الصفوف الاول۔" حمیدہ نے کہا کہ یہ آیت عثمان کے قرآن میں تبدیلی کرنے سے قبل یوں ہی تھی۔

نوٹ: موجودہ قرآن " وعلی الذین یصلون الصفوف الاول" کے الفاظ موجود نہیں۔
الاتقان فی علوم القرآن جز اول ص ۴۷۱ امام جلال الدین سیوطی۔




انجمنِ سپاہ صحابہ کی نظر میں آخر مسلمان کون؟؟؟


انجمنِ سپاہ صحابہ کی نظر میں آخر مسلمان کون؟؟؟

دہشتگرد اور نام نہاد مذہبی جماعت سپاہ صحابہ کہ شائع کردہ اس پمفلٹ نما فتوی کی رو سے امام الحرمین سمیت اہل سنت کے علماءِ اہلسنت کی کثیر تعداد کافر قرار پائی۔۔

پمفلٹ کی شہ سرخی: "جو بھی شیعوں ک
ے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر۔

اس فتوی کی رو سے امام الحرمین شریفین بھی کافر قرار دیے گئے۔۔ کیوں کہ عرصہ داراز سے کڑوڑوں شیعہ امامیہ فریضہِ حج کی ادائگی کے لیے بیت اللہ کی زیارت کا شرف حاصل کررہے ہیں، شرعی نقظہ نگاہ سے حرمِ خدا میں کفار کا داخلہ ممنوع ہے مگر آج تک کسی شیعہ کو حرمِ خدا میں جانے کہ لیے کسی نے نہیں روکا خود امام الحرمین کا سکوت اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی نظر میں شیعہ مسلمانوں کا ہی ایک توحید پرست مسلک و مکتبہ فکر ہے۔ ۱۹۹۴ میں اسی دہشتگرد جماعت کے سرغنہ ابو الریحان فاروقی نے خادمِ حرمین کو مفت مشورہ بھی دیا تھا کہ وہ شیعانِ امام علی علیہ السلام کا داخلہ مکہ مکرمہ میں ممنوع قرار دین مگر مولوی کی اس بات کو گئی برس گرزجانے کے بعد بھی کوئی اہمیت نہیں دی گئی اور ہر سال کی طرح اس سال بھی انشاء اللہ آئندہ مہینوں میں سیعہ فریضہ حج کی ادائگی کے لیے حرمِ خدا تشریف لے جائیں گے۔ لہذا امام الحرمین بھی تکفیرِ شیعت کے قائل نہیں اور اس دہشت گرد جماعت کے شائع کردہ فتوی کی رو سے امام الحرمین بھی کافر قرار پائے۔

مسلکِ دیوبند کے قدیم عالم شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی بھی سپاہِ صحابہ کی نظر میں کافر قرار پائے۔
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی جن کا نام شیعہ مخالفین کے لیے کسی تعارف کا محتاج نہیں
سے سوال پوچھا گیا۔۔

س: شیعہ کی اقتداء میں نماز جائز ہے؟

شاہ صاحب کا جواب کی صورت میں تکفیریوں کہ منہ پر طمانچہ:
فرماتے ہیں:
کہ اس بارے میں حکم یہ ہے کہ اگر اس شیعہ کا عقیدہ یہ نہ ہو کہ وہ صحابہِ کبار اور امھات کو کافر جانتا ہو بلکہ صرف "ظلم" "غضب" اور "جور" کہ ذکر پر اکتفاء کرتا ہو تو ضرورت کی حالت میں اس کہ پیچھے نماز جائز ہے۔

فتاوی عزیزی شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ص۳۸۹ طبع کراچی۔

لو بھئی شاہ صاحب بھی شیعوں کومسلمان سمجھتے ہیں اور بلیقین انجمنِ سپاہ صحابہ مذکورہ عبارت "جو بھی شیعوں کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر۔" کی روشنی میں شاہ صاحب کو بھی کافر قرار دیگی۔

ملک کے نامور مذہبی اسکالر ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم بھی اس جماعت کے بزدیک کافر ہیں۔
ڈاکٹر اسرار احمد کے نام سے شاید ہی کوئی ناواقف ہو، مرحوم نے دورہِ ایران کے بعد اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے شیعہ امامیہ کو مسلمانوں کا مکتب تسلیم کرتے ہوئے اس گروہ کی من حیث الجماعت تکفیر کی نفی کی ہے تفصیل کے لیے موصوف کی کتاب جس کا عنوان بھی خاصہ دلچسپ اور اس جماعت کے مکروہ چہرے پر طمانچہ ہے کچھ یو ہے " شیعہ سنی مفاہمت کی ضرورت اور اہمیت" یہ ایک مختصر رسالے کی حیثیت سے موجود ہے، جسکے ناشر انجمنِ خدامِ قرآن ہیں۔ لہذا سپاہ صحابہ کے شائع کردہ اس فتوی "جو بھی شیعوں کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر۔" کی رو سے ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم بھی کافر قرار پائے۔

اسی طرح دیوبند مسلک سے ایک اور مشہور عالم علامہ رشید احمد گنگوہی فرماتے ہیں کہ وہ شیعوں کی تکفیر یعنی کافر کہنے کے قائل نہیں ملاحظہ فرمائیں موصوف کہ فتاوی کی کتاب جو کہ فتاوی رشیدیہ کہ نام سے معروف ہے۔ لہذا "جو بھی شیعوں کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر۔" اس فتوی کی رو سے مولانا رشید بھی کافر قرار پائے۔

نیز یہ ملک دشمن نام نہاد مذہبی جماعت [ سپاہ صحابہ] مسلکِ اہلسنت کے جید علمائِ حقیقی جو اتحادِ بین المسلمین کے قائل ہیں اور ملکی سالمیت و بقا کے لیے کوشاں ہیں اور فرقہ واریت اور جبری رویے کے خلاف محاز آراء ہیں انہے بھی کافر گردانتی ہے آخر میں ہر دردِ دل رکھنے والے محبِ وطن قاری سے گزارش ہے کہ وہ اس استعماری اور دہشتگرد جماعت سے اظہارِ بیزاری کہ ساتھ ساتھ اپنی صفوں میں اتحاد رکھیں۔

دعاگو: تابش علی

Friday, 31 August 2012

یومِ عاشور کا روزہ قاتلانِ امام حسین علیہ السلام کی بدعت ہے۔ امام حاکم نیشاپوری





یومِ عاشور کا روزہ قاتلانِ امام حسین علیہ السلام کی بدعت ہے۔ امام حاکم نیشاپوری


امام حاکم کہتے ہیں کہ میں جوبیر سے خدا کی جانب سے بیزاری چاہتا ہوں۔ یومِ عاشورہ پورے دن کا روزہ رکھنا رسول اللہ ص سے بلکل ثابت نہیں بلکہ یہ تو قاتلانِ امام حسین کی بدعت ہے جس کو انھوں نے شروع کیا تھا۔ 

امام ابن الجوزی کتاب الموضوعات جز الثانی ص ۲۰۴۔




Wednesday, 8 August 2012

شہادتِ امام علی علیہ السلام پر امام حسن علیہ السلام کا خطبہ


شہادتِ امام علی علیہ السلام پر امام حسن علیہ السلام کا خطبہ

امام حسن ع نے شہادت امام علی ع کے موقعہ پر خطبہ ارشاد فرمایا یہ خطبہ اہلسنت کی مختلف کتب میں مختلف الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔
اس خطبے کے تمام متون اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ امام حسن افضلیتِ امام علی ع کے دل و جان سے قائل تھے۔

)
ہبیرہ بن بریم سے مروی ہے کہ میں نے حسن ابن علی ع کو دیکھا کہ انھوں نے کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا: کل ایک ایسا شخص تم سے جدا ہو گیا جس سے نہ اولین میں کوئی آگے بڑھ سکا نہ آخرین اسے پائین گے۔ رسول ص اسے جب میدانِ جنگ میں بھیجتے اور علم دیتے تو ہو اس وقت تک نہ واپس آتا جب تک اللہ اسے فتح نہ دیدے جبرئیل اس کی داہنی جانب رہتے میکائیل اس کے بائین جانب رہتے اس نے نہ چاندی چھوڑی نہ سونا سوائے ۷۰۰ درہم کے جو اس کی عطا سے بچ گئے سن سے ان کا ارادہ خادم خریدنے کا تھا۔


طبقات الکبری امام ابو عبداللہ بن محمد سعد البصری جز الثالث ص ۳۸ 


(۲)

حضرت ابو طفیل واثلہ کہتے ہیں کہ امام حسن نےحمدِ خدا کے بعد  امیر المومنین خاتم الوصیین کا ذکر کیا اور کہا اے لوگوں تم نے آج ایک ایسے شخض کو کھویا جس پر نہ اولین سبقت لے جاسکے نہ آخرین میں اس جیسا دیکھا گیا، رسول اللہ ص ہر جنگ میں اسے علم عطا کرتے اس کے داہنی جانب جبرائیل اور بائین جانب میکائیل رہتے اور ہو اس وقت تک نہ واپس آتا جب تک خدا اسے فتح نہ دیدے اللہ نے اس رات میں اس کی روح قبض کی جس رات وصیِ موسی حضرت یوشع بن نون کی روح قبض کی گئی اور اس رات عیسی ع کو آسمان پر اٹھایا گیا اور اسی رات قرآن کو نازل کیا گیا۔

مجمع الزوئد امام ہیثمی ج۱۱ ص ۱۴۶

)
ابو خآلد بن جابر کہتے ہیں کہ جب حضرت علی علیہ السلام قتل کیے گئے تو حضرت امام حسن نے خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا: تم نے رات ایک شخص کو قتل کردیا ایسی رات جس میں قرآن نازل ہوا ، جس میں حضرت عیسی ع آسمان پر اٹھائے گئے جس میں حضرت موسی کے ساتھ یوشع بن نون شہید کیے گئے خدا کی قسم اولین میں بھی کوئی آپ سے آگے نہیں جا سکا اور نہ آئندہ آنے والے لوگ جا پائینگے خدا کی قسم رسول ص نے انھیں لشکر دے کر روانہ کرتے تو جبرئیل اس کی داہنی جانب رہتے میکائیل اس کی بائیں جانب رہتے۔

تاریخ طبری ج ۵ ص ۱۵۷ طبع مصر۔

(۴)
امام حسن نے شہادتِ حضرت علی کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا کہ بے شک تمہارے درمیان سے ایک ایسا شخص رخصت ہوا جس کہ علم کے پم پلہ نہ اولین میں تھا اور نہ کوئی ان کہ بعد ہو سکتا ہے۔

فضائل الصحابہ امام احمد بن حنبل ج۱ ص ۷۳۷ حدیث: ۱۰۱۳