Tuesday, 9 August 2016

ابن تیمیہ ائمہِ اھلِ سنت کی نظر میں

ابن تیمیہ کی مذمت اور ائمہِ اھل سنت:

امامِ اہلسنت علامہ احمد ابن حجر ہیثمی اپنی کتاب الجواھر میں ابن تیمیہ کی مذمت کرتے ہوئے کہتے ہیں:

"ابن تیمیہ کون ہے جس کی طرف نظر کی جائے یا دین کے معاملات مین اس کو معتمد جانا جائے ؟ وہ تو صرف وہی ہے جو ائمہ کی جماعت نے فرمایا: ان حضرات نے اس کے فاسد کلمات اور اس کی کھوٹی دلیلون پر سخت گرفت فرمائی یہان تک کہ اس کی لغزشون کا عیب اور اس کے قبیح اوہام اغلاط کی حقیقت کو بے نقاب کرکے رکھ دیا ان ائمہ کی صف میں عز بن جماعہ ہیں جنھون نے کہا: ابن تیمیہ ایسا بندہ ہے جسے اللہ نے گمراہ کیا اور برگشتہ راہ فرمایا اور اس پر ذلت و خواری کی چادر ڈالی اور اس کی کثرتِکذب و افتراء کے سبب اسے ایسے مقام پر پہنچایا جس کا انجام رسوائی اور محرومی کے سوا کچھ نہیں."

الجواھر المنظم فی زیارۃ القبر الشریف النبی المکرم علامہ ابن حجر ہیثمی 

Thursday, 16 June 2016

کیا صحیح بخاری بعدِ کتابِ الہی صحیح ترین کتاب ہے؟

"اصح الکتب بعد کتاب اللہ کا عقیدہ کیون؟"

"صحیح بخاری میں ضعیف و غیر معتبر روایات.."
امام و حافظ ابن حجر عسقلانی بخاری کی شرح فتح الباری کے مقدمہ ھدی الساری میں لکھتے ہیں کہ:

"حفاظ نے صحیح بخاری کی ١١٠ حدیثون کو غیر معتبر قرار دیا ہے جن میں سے ٣٢ حدیثون کو امام مسلم نے بھی نقل کیا ہے.

مزید ابن حجر نے ٣٠٠ سے ذائد افراد کے نام ذکر کیے ہیں جو بخاری کے رجال میں شامل ہیں جن کو قدیم محدثین نے ضعیف اور غیر معتبر قرار دیا ہے."

ھدی الساری مقدمہ فتح الباری شرح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانی ص
١٤٤



Thursday, 9 June 2016

کلامِ امیر المومنین علیہ السلام

کلامِ امیر المومنین:" امر بتحصیل الادب ومنع از تفاخر بانساب:"

کن ابن شئت واکتسب ادباً
یغنیک محمودہ عن النسب

فلیس تغنی الحسیب نسبتہ 
بلالسان لہ ولا ادب

ان الفتی من یقول ھا انا ذا
لیس الفتی من یقول کان ابی

تم جس کے بھی بیٹے ہو ادب حاصل کرو..
اس ادب کی خوبی نسب سے تم کو بے پرواہ کردیگی..

شریف کو اس کا نسب بغیر زبان..
اور بغیر ادب کے کچھ مفید نہیں..

جوان مرد وہ ہے جو کہے "آؤ میں,ہون"..
وہ جوان مرد نہیں جو کہے کے "میرا باپ وہ تھا"..

دیوانِ امام علی علیہ السلام طبع بیروت.

Wednesday, 18 May 2016

حدیثِ منییت اور مولانا محمد اسحاق اہلحدیث

"علیُ منی وانا منہ,,,حسین و,منی وانا من الحسین ع"

مولانا محمد اسحاق (اہلحدیث) کہتے ہیں:

"دو شخصیتین ایسی ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ ص کی احادیث یہ بتاتی ہیں کہ "یہ مجھ سے اور میں ان سے ہوں." صحیح بخاری میں حضرت علی کے بارے میں آیا ہے:علیُ منی وانا منہ (علی مجھ سےہیں اور میں علی سے ہوں.) اور ترمذی و ابن ماجہ میں ہے کہ:حسینُ منی وانا من الحسین (حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے.) یہ الفاظ عربی میں بالکل یک جان ہونے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں یعنی میں اس سے اور وہ مجھ سے ہے اس سے آپ یہ سمجھ لیں وہ دو نہیں بلکہ ایک ہی ہیں اس سے بڑی فضیلت کوئی نہیں ہے کہ اللہ کا رسول ص یہ فرمائے کے علی اور حسین مجھ سے ہیں انہین مجھ سے الگ مت سمجھو یہ حقیقتاً بہت بڑا درجہ ہے."

خطباتِ اسحاق موضوع "کربلا اور اصحاب" مولانا محمد اسحاق اہلحدیث صفحہ ٨٦


Wednesday, 23 March 2016

تسبیحِ زہرا علیہ السلام... اہمیت ,فضیلت اور فرضیت!

"تسبیحِ فاطمہ علیہ السلام"

١.امام جعفرِصادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ جنابِ سیدہ (س) کی تسبیح اس ذکرِ کثیر مین سے ہے جس کے بارے مین اللہ فرماتا ہے (اُذكروا الله ذکرًا کثیرًا) یعنی اللہ کا بہت ذکر ک یا کرو. (معانی الاخبار شیخ صدوق, وسائل الشیعہ)

٢.امام جعفرِ صادق علیہ السلام ہی سے مروی ہے کہ آپ ع نے اپنے صحابی ابوہارون سے فرمایا: کہ ہم اپنے بچون کو تسبیحِ فاطمہ ع پڑھنے کا اسی طرح حکم دیتے جیسے انہین نماز پڑھنے کا حکم دیا کرتے لہذا تم اسے لازم قرار دو کیونکہ اسے لازم قرار دے کر کوئی بندہ شقی و بدبخت نہین ہوسکتا. (ثواب الاعمال شیخ صدوق, التہذیب الاحکام شیخ طوسی رح)

٣.امام جعفرِ صادق ع نے فرمایا ہر روز ہر نماز کے بعد تسبیحِ فاطمہ ع پڑھنا مجھے ہر روز ایک ہزار رکعت نماز پڑھنے سے ذیادہ پسند ہے. (تہذیب الاحکام شیخ طوسی رح, وسائل الشیعہ)

Wednesday, 30 September 2015

حدیثِ غدیر اور علماء اهلسنت


حدیثِ غدیر اور علماءِ اہلِ سنت:

 حدیثِ غدیر "من کنتُ مولا" جلیل القدر ائمہِ اہلسنت کے نزدیک انتہائی معتبر و مستند احادیث مین شمار ہوتی ہے, اہلسنت محدثین کی ایک بڑی جماعت نے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور اس حدیث کی توثیق کی ہے.

 امام حافظ ابن کثیر اپنے استاد ابن تیمیہ کا رد کرتے ہوئے حافظ امام ذہبی کا قول نقل کرتے ہین: حدیث من کنتُ مولاہ متواتر ہے مین یقین کرتا ہو کہ یہ بیشک رسول اللہ ص کا ہی ارشاد ہے رہا اللھم وال من والاہ کا جملہ تو احادیث مین یہ جملہ بھی قوی السند ہے. اس کے علاوہ حافظ ابن کثیر نے حدیثِ غدیر کو اپنی کتاب مین کئی جگہ درج کیا اور اسے صحیح و حسن قرار دیا. البدایہ والنہایہ امام ابن کثیر ج٧ ص٤٣٣ 


 امام شمس الدین الذہبی نے بھی حدیثِ غدیر کو اپنی کتب مین نقل کیا اور اسے حسن قرار دیا اپنی کتاب تذکرۃ الحفاظ مین محدث جریر طبری کے حالات بیان کرتے ہوئے امام ذہبی بیان کرتے ہین: مین نے جریر طبری کی ایک کتاب دیکھی جس مین انھون نے حدیثِ غدیر کو مختلف طرق و اسناد سے بیان کیا تھا مین (ذہبی) طرق و اسناد کی کثرت دیکھ کر حیران رہ گیا. تذکرۃ الحفاظ امام ذہبی ج ١ ص٢١١ 



 علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی حدیثِ غدیر سے متعلق فرماتے ہین: حدیثِ غدیر کو امام ترمذی اور امام نسائی نے روایت کیا ہے اور اس لی بہت ہی زیادہ سندین ہین, ابن عقدہ نے اس کے تمام طرق و اسناد کو ایک مستقل کتاب مین جمع کیا ہے اور اس کی اکثر سندین صحیح اور حسن ہین. فتح الباری شرح صحیح بخاری ج٧ ص
٤٣٨ 


 امام علی ع کے فضائل مین امام نسائی کے جمع کردہ 
مجموعہ "خصائصِ امام علی ع" کے شارح امام ابو اسحاق الحوینی شیخِ الوہابیہ کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہین: خبردار حدیثِ غدیر صحیح حدیث ہے اور اس کو جھٹلانے والے کا قول قوائدِ حدیثیہ کے خلاف ہے. کتاب الحلی بتخریج خصائص علی ع ص٩٦.



 مزید امام محمد جزری المقری الشافعی حدیثِ غدیر کو مختلف طرق سے بیان کرنے کے بعد فرماتے ہین: ایک جمِ غفیر نے اس حدیث کو دوسرے جمِ غفیر سے نقل کیا ہے لہذا اس شخص کی بات لائقِ توجہ نہین جس نے اس حدیث کو ضعیف قرار دینے مین حیلے بازیان کین جس کو اس علم کی اطلاع ہی نہین اس حدیث کو ایسے حضرات نے بھی نقل کیا جن کی خبر سے قطیعت حاصل ہوتی ہے اور یہ بھی ثابت ہے کہ یہ حدیث بنی ص نے غدیر کے دن اُس خطبے مین ارشاد فرمائی تھی جو آپ ص نے حضرت علی ع کے حق مین ١١ ہجری اٹھارہ ذی الحج کو حجتہ الودع کے موقعے پر واپسی پر ارشاد فرمایا. اسنی المطالب فی مناقبِ علی ابن ابی طالب ع امام محمد بن جزری شافعی ص ٥٩ 


 اہلِ حدیث عالم علامہ نواب صدیق حسن قنوجی نے بھی حدیثِ غدیر پر سیر حاصل تبصرہ کیا ہے فرماتے ہین: اس مین کوئی شک نہین کہ یہ حدیث صحیح ہے اس کو محدثین کی ایک جماعت نے روایت کیا انہین مین امام ترمذی, امام نسائی اور امام احمد ابن حنبل ہین اس حدیث کی بہت اسناد ہین اور یہ سولہ صحابہ سے روایت کی گئی ہے نبی ص کے صحابہ نے اسے آپ ص سے سنا تھا اور جب حضرت علی کے ساتھ خلافت مین اختلاف اور نزاع کھڑا ہوا تو اُنہون نے بطورِ شاہد یہ حدیث بیان کی اس کی اکثر اسناد صحیح ہین اور حسن ہین لہذا جس شخص نے اس کی صحت مین اعتراض کیا اس شخص کی بات پر توجہ نہ دی جائے گی اور اس شخص کی بات بھی رد کی جائے گی جس نے کہا کے اس حدیث مین "اللھم وال مین والاہ" کے الفاظ موضوع ہین اس کے لیے کے یہ الفاظ بھی متعدد اسناد سے مروی ہین انہین امام ذہبی نے صحیح کہا ہے.
 الدین الخالص صدیق حسن قنوجی بھوپالی ج٣.ص١٠٦

Sunday, 24 May 2015

صحابه اور نكاح متعه

کیا صحابہ نے بعدِ رسول متعہ کیا؟

حافظ ابن حجر عسقلانی "الاصابہ فی تمیز الصحابہ" مین حضرت سلمہ بن امیہ کے حالات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہین:

"سلمہ بن امیہ نے ایک عورت سے متعہ کیا حضرت عمر کو معلوم ہوا تو انہون نے انہین دھمکایا. المحلی مین ابن حزم لکھتے ہین کہ نبی ص کی وفات کے بعد صحابہ مین سے بعض افراد عقدِ متعہ کے قائل تھے اور حلال جانتے تھے جن مین عبد اللہ ابن مسعود, ابن عباس, جابر بن عبداللہ اور مغیرہ وغیرہ شامل تھے.

الاصابہ فی تمیز الصحابہ ابن حجر عسقلانی در حالات "سلمہ بن امیہ" ج٢ ص٤٤٠ 

اس واقعہ کے بعد دو بنیادی سوال جنم لیتے ہین:

1.اگر نکاحِ متعہ رسول اللہ ص کی حیاتِ طیبہ مین حرام قرار دے دیا گیا تھا تو صحابہ کی یہ جماعت اس "حرام کاری" مین کیون ملوث رہی؟ (معاذاللہ)

2.کیا حضرت عمر نے سلمہ بن امیہ کو دھمکانے پر اکتفاء کیا یا حدِ شرعی نافذ کی؟ اگر نہین تو کیون؟