Wednesday, 10 June 2020

اہل شام کا بغض

امام جلال الدین ابی بکر السیوطی اپنی کتاب تدریب الراوی میں لکھتے ہیں: 

 "اہل شام حضرت علی سےبغض و عناد کی وجہ سے ہر "علی" نامی شخص کو ”عُلیا“ کہا کرتے تھے یہی وجہ تھی کے مسلمہ کے والد اور رباح کے بیٹے کےنام کو بجائے علی کے عُلیا کے نام سے پکارا جانے لگا۔" 

 تدریب الراوی امام سیوطی صفحہ: 588



امام موسی کاظم علیہ السلام کی عبادت

امام موسی ابن جعفر علیہ السلام کو سندی بن شاہک کے پاس قید میں رکھا گیا اس نے اپنی بہن سے ان کی نگرانی کرنے کے لیے کہا تو وہ رضا مند ہوگئی چناچہ وہ کہتی ہے: 

 "جب (موسی ابن جعفر) عشاء کی نماز پڑھ لیتے تو اللہ کی حمد و ثناء اور دعا میں مشغول ہوجاتے حتی کہ ساری رات اسی عالم میں گزر جاتی پھر رات کے آخری حصے میں کھڑے ہوکر فجر تک نناز پڑھتے رہتے پھر فجر کی نماز ادا کرتے اور طلوع شمس تک ذکر و اذکار میں مشغول رہتے پھر چاشت کے وقت تک بیٹھے رہتے بعد ازاں اٹھ کر مسواک کرتے اور کچھ تناول فرمالیتے پھر زوال سے کچھ پہلے تک آرام فرماتے اس کے بعد وضو کرتے اور ظہر سے عصر تک نماز میں مشغول رہتے عصر سے مغرب کے درمیان قبلہ کی جانب متوجہ رہتے اور ذکر کیا کرتے پھر مغرب سے عشاء تک نماز میں مشغول ہوجاتے یہ آپ (موسی ابن جعفر) کا معمول تھا سندی کی بہن جب کبھی آپ کو دیکھتی تو کہتی وہ لوگ برباد ہوں جنہوں نے اس متقی و پرہیزگار شخص کو قید کررکھا ہے۔ 

 تہذیب الکمال امام مزی جلد:29 صفحہ: 50





امام زین العابدین ع کی عاجزی

حضرت طاوس کہتے ہیں: 

میں نے امام علی ابن حسین علیہ السلام کو بیت اللہ کے پاس مقام حطیم میں حالت سجدہ میں دیکھا تو میں نے اپنے دل میں کہا: یہ اہلبیت نبوی میں سے کوئی نیک اور صالح شخص ہیں، مجھے ضرور سننا چاہیے کہ یہ سجدہ میں کیا کہہ رہے ہیں لہذا میں جب قریب گیا اور کان لگا کر سنا تو وہ اللہ تعالی کے حضور یوں آہ و زاری کررہے تھے:عبيدك بفنائك،مسكينك بفنائك،سائلك بفنائك ، فقيرك بفنائك۔۔۔ "اے اللہ میں تیرا ادنی بندہ تیرے گھر کے صحن میں حاضر ہے، تیرا مسکین بندہ، تیرے در سے مانگنے والا اور تیرا فقیر بندہ تیرے در پر حاضر ہے"۔ حضرت طاوس کہتے ہیں کی رب ذوالجلال کی قسم! اس کے بعد میں جب مشکل میں پڑا اللہ سے ان ہی الفاظ کے ساتھ دعا کی تو اللہ نے میری وہ مشکل حل فرمادی۔ 


 البدایہ والنہایہ امام ابن کثیر جلد:9 صفحہ:186 صفة الصفوة امام ابن جوزی صفحہ:327





امام جعفر صادق کا علمی مقام

امام جعفر صادق علیہ السلام اور دعوی سلونی:

 عمر وابن ابی المقدام سے روایت نقل ہوئی ہے کہ:

 قال کنت اذا نظرت الیٰ جعفر بن محمد علمت انہ من سلالة البنیین قد رایتہ واقفا عند الجمرة یقول سلونی سلونی ۔ 

 عمرو کہتے ہیں کہ میں جب بھی جعفر بن محمد کی طرف نظر دوڑاتا تو جان لیتا کہ آپ انبیاء کی نسل میں سے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا جب آپ ایک پتھر پر کھڑے تھے اور یہ فرما رہے تھے سلونی سلونی ۔


 امام مالک بن انس امام جعفرِ صادق علیہ السلام سے متعلق فرماتے ہیں:

 علمی اعتبار سے جعفر بن محمد علیہ السلام سے بہتر انسان نہ آنکھون نے دیکھا نا کانون نے سنا نا ہی کسی انسان کے تصور میں آیا ہے. عبادت و زہد و تقوی میں بھی آپ علیہ اسلام کا یہی عالم تھا میں نے آپ ع کو جب دیکھا تین حالتوں میں ہی دیکھا یا تو مشغولِ نماز ہوتے یا حالتِ روزہ میں ہوتے یا تلاوتِ کلامِ پاک میں مصروف ہوتے.


 سیرالاعلام النبلاء امام ذہبی جلد 6 صفحہ: 556 تہذیب التہذیب ابن حجر عسقلانی جلد 1 صفحہ 311





عمران ابن حطان خارجی اور امام بخاری

امام ابن کثیر لکھتے ہیں:

 "کہ یہ بخاری ہیں جنھوں نے حضرت علی (ع) کے قاتل عبدالرحمان بن ملجم کی تعریف کرنے والے عمران بن حطان الخارجی سے (صحیح بخاری ) میں روایت لی ہے اور حالانکہ یہ شخص بدعت کے بڑے داعیوں میں سے تھا۔"

 اختصار علوم الحدیث امام ابن کثیر دمشقی صفحہ: 198




علم امام علی علیہ السلام!

قیامت تک جس شے کے بارے میں سوال کرو گے میں بتادوں گا۔ امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام!! 


 "عن ابی وھن بن عبداللہ بن ابی الطفیل، قال: شھدت علی ابن ابی طالب (ع) وھو یخطب وھو یقول: سلونی فواللہ، لاتسالونی عن شیء یکون الی یوم القیامہ الااخبرتکم بہ، وسلونی عن کتاب اللہ فواللی مامنہ آیتہ الا وانا اعلم بلیل نزلت ام بنھار ام بسھل ام بجبل۔"

 حضرت وھب ابن عبداللہ ابن ابو طفیل نے فرمایا: میں نے حضرت علی ابن ابی طالب (ع) کو دیکھا کہ وہ خطاب کرتے ہوئے فرمارہے ہیں: مجھ سے سوال کرو، اللہ کی قسم تم قیامت تک جس شے کے بارے میں سوال کرو گے میں تمہیں اس کے بارے میں بتادوں گا۔ مجھ سے سوال کرو اللہ کی کتاب کے بارے میں کوئی ایک ایسی آیت نہیں جس کے بارے میں مجھے علم نہ ہو کہ آیا وہ رات کو نازل ہوئی یا دن کو، میدان میں نازل ہوئی یا پہاڑ پر۔

اسنادہ صحیح۔ 

 اخبار مکة امام احمد الازرقی صفحہ:92


عن سعید ابن المسیب قال: ماکان احد بعد رسول اللہ (ص) اعلم من علی ابن ابی طالب (ع)۔ 

 سعید ابن مسیب نے فرمایا: رسول اللہ (ص) کے بعد حضرت علی ابن ابی طالب (ع) سے بڑھ کر کوئی صاحب علم نہیں تھا۔ الکنی والاسماء حافظ الدولابی رقم: 1096 صفحہ: 614









ستر ہزار منبروں سے امام علی (ع) پر ترا کیا جاتا تھا۔

شیخ ابوالفتوح عبداللہ تلیدی لکھتے ہیں:


 "عہد بنوامیہ میں ستر ہزار سے زائد منبروں سے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام پر لعنت کی جاتی تھی۔"


 الأنوار الباهرة بفضائل أهل البيت النبوي والذرية الطاهرة ، ابو الفتوح عبداللہ بن عبداللہ تلیدی صفحہ: 44، دار ابن حزم۔