Wednesday, 10 June 2020

امام جعفر صادق کا علمی مقام

امام جعفر صادق علیہ السلام اور دعوی سلونی:

 عمر وابن ابی المقدام سے روایت نقل ہوئی ہے کہ:

 قال کنت اذا نظرت الیٰ جعفر بن محمد علمت انہ من سلالة البنیین قد رایتہ واقفا عند الجمرة یقول سلونی سلونی ۔ 

 عمرو کہتے ہیں کہ میں جب بھی جعفر بن محمد کی طرف نظر دوڑاتا تو جان لیتا کہ آپ انبیاء کی نسل میں سے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا جب آپ ایک پتھر پر کھڑے تھے اور یہ فرما رہے تھے سلونی سلونی ۔


 امام مالک بن انس امام جعفرِ صادق علیہ السلام سے متعلق فرماتے ہیں:

 علمی اعتبار سے جعفر بن محمد علیہ السلام سے بہتر انسان نہ آنکھون نے دیکھا نا کانون نے سنا نا ہی کسی انسان کے تصور میں آیا ہے. عبادت و زہد و تقوی میں بھی آپ علیہ اسلام کا یہی عالم تھا میں نے آپ ع کو جب دیکھا تین حالتوں میں ہی دیکھا یا تو مشغولِ نماز ہوتے یا حالتِ روزہ میں ہوتے یا تلاوتِ کلامِ پاک میں مصروف ہوتے.


 سیرالاعلام النبلاء امام ذہبی جلد 6 صفحہ: 556 تہذیب التہذیب ابن حجر عسقلانی جلد 1 صفحہ 311





عمران ابن حطان خارجی اور امام بخاری

امام ابن کثیر لکھتے ہیں:

 "کہ یہ بخاری ہیں جنھوں نے حضرت علی (ع) کے قاتل عبدالرحمان بن ملجم کی تعریف کرنے والے عمران بن حطان الخارجی سے (صحیح بخاری ) میں روایت لی ہے اور حالانکہ یہ شخص بدعت کے بڑے داعیوں میں سے تھا۔"

 اختصار علوم الحدیث امام ابن کثیر دمشقی صفحہ: 198




علم امام علی علیہ السلام!

قیامت تک جس شے کے بارے میں سوال کرو گے میں بتادوں گا۔ امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام!! 


 "عن ابی وھن بن عبداللہ بن ابی الطفیل، قال: شھدت علی ابن ابی طالب (ع) وھو یخطب وھو یقول: سلونی فواللہ، لاتسالونی عن شیء یکون الی یوم القیامہ الااخبرتکم بہ، وسلونی عن کتاب اللہ فواللی مامنہ آیتہ الا وانا اعلم بلیل نزلت ام بنھار ام بسھل ام بجبل۔"

 حضرت وھب ابن عبداللہ ابن ابو طفیل نے فرمایا: میں نے حضرت علی ابن ابی طالب (ع) کو دیکھا کہ وہ خطاب کرتے ہوئے فرمارہے ہیں: مجھ سے سوال کرو، اللہ کی قسم تم قیامت تک جس شے کے بارے میں سوال کرو گے میں تمہیں اس کے بارے میں بتادوں گا۔ مجھ سے سوال کرو اللہ کی کتاب کے بارے میں کوئی ایک ایسی آیت نہیں جس کے بارے میں مجھے علم نہ ہو کہ آیا وہ رات کو نازل ہوئی یا دن کو، میدان میں نازل ہوئی یا پہاڑ پر۔

اسنادہ صحیح۔ 

 اخبار مکة امام احمد الازرقی صفحہ:92


عن سعید ابن المسیب قال: ماکان احد بعد رسول اللہ (ص) اعلم من علی ابن ابی طالب (ع)۔ 

 سعید ابن مسیب نے فرمایا: رسول اللہ (ص) کے بعد حضرت علی ابن ابی طالب (ع) سے بڑھ کر کوئی صاحب علم نہیں تھا۔ الکنی والاسماء حافظ الدولابی رقم: 1096 صفحہ: 614









ستر ہزار منبروں سے امام علی (ع) پر ترا کیا جاتا تھا۔

شیخ ابوالفتوح عبداللہ تلیدی لکھتے ہیں:


 "عہد بنوامیہ میں ستر ہزار سے زائد منبروں سے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام پر لعنت کی جاتی تھی۔"


 الأنوار الباهرة بفضائل أهل البيت النبوي والذرية الطاهرة ، ابو الفتوح عبداللہ بن عبداللہ تلیدی صفحہ: 44، دار ابن حزم۔



Monday, 2 September 2019

امام علی علیہ السلام کے خلاف قتل عثمان کا پروپیگنڈا۔

عمرو ابن عاص نے حضرت عائشہ سے کہا: میری بڑی خواہش تھی کے آپ جنگ جمل (حضرت علی و حضرت عائشہ کے درمیان جنگ) میں قتل کردی جاتیں۔ انہوں نے کہا تیرا کوئی باپ نہ ہو ایسا کیوں؟؟؟ اس پر عمرو ابن عاص نے کہا: آپ تو اپنے وقت پر وفات پاتیں اور جنت چلی جاتیں اور ہم آپ کی شہادت کو علی ابن ابی طالب کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا بڑا بہانہ بنالیتے۔

الکامل فی اللغتہ الادب امام ابن المبرد متوفی 285 ہجری جلد:1 صفحہ: 239 طبع سعودیہ عرب۔



Monday, 11 February 2019

اہل شام کی بغاوت قاضی شوکانی

قاضی شوکانی اہل شام کی بغاوت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

"اہل صفین کی بغاوت ظاہر ہے۔ اگر اس کے بارے میں صرف یہ ایک ارشاد نبوی (ص) ہی ہوتا جو آپ (ص) نے عمار سے فرمایا تھا کہ تجھے ایک باغی گروہ قتل کرے گا تو یہی بطور ثبوت کافی تھا پھر معاویہ کو علی (ع) کی مخالفت کا حق نہیں تھا، لیکن انہوں نے ریاست اور دنیا کو طلب کرنے کا ارادہ ایسے لوگوں کے بل پر کیا جو نادان تھے اور منکر و معروف کو نہیں جانتے تھے پس انہیں معاویہ کی جانب سے دھوکا دیا گیا کہ وہ حضرت عثمان کا قصاص چاہتے ہیں یہ تدبیریں ان پر کارگر ہوگئیں اور انہوں نے معاویہ کے لیےجان و مال کی قربانیاں دیں اور ان کے خیرخواہ بن گئے۔ یہاں تک کے علی (ع) اہل عراق سے کہتے تھے کہ میں چاہتا کہ تمھارے دس کے بدلے میں اہل شام کا ایک آدمی لے لوں جس طرح درھم دینار سے بدلہ جاتا ہے۔ شامی عوام پر تو تعجب نہیں تعجب ان حضرات پر ہے جو اہل دین و بصیرت تھے مثلا بعض صحابہ و تابعین جو معاویہ کی جانب مائل تھے۔ میری سمجھ نہیں آتا کہ اس معاملے میں کیا چیز ان سے چھپی رہ گئی تھی کہ انہوں نے اہل باطل (اہل شام) کی مدد کی اور اہل حق (حضرت علی) کا ساتھ چھوڑ دیا جبکہ انہوں نے اللہ کے کلام میں پڑھ رکھا تھس کہ اگر ایک گروہ دوسرے گروہ کے خلاف بغاوت کرے تو باغیوں سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے امر کی جانب لوٹ آئیں اور انہوں نے وہ متواتر احادیث بھی سنی ہوئیں تھیں کہ جب تک صریح کفر کا ارتکاب حاکموں سے نہیں دیکھو ان کی نافرمانی حرام ہے اور پھر انھوں نے رسول اللہ (ص) کا ارشاد بھی سنا تھا جو آپ نے عمار بن یاسر رض سے فرمایا تھا۔ اگر صحابیت کا مرتبہ عظیم نا ہوتا اور خیر القرون کا فضل بلند نہیں ہوتا تو میں کہتا کہ دنیا کے مال و محبت نے اس امت کے سلف کو بھی اسی طرح آزمائش نیں ڈالا جس طرح اس نے خلف کو ڈالا۔"

وبل الغمام على شفاء الأوام  قاضی شوكانی جلد:2 صفحہ: 416،417





Monday, 28 January 2019

معاویہ حکومت کے لالچی اور دنیا کے طالب تھے

یمن سے تعلق رکھنے والے اہلحدیث عالم و امام صالح بن مہدی مقبلی یمنی لکھتے ہیں کہ: 

"امیر معاویہ حکومت کے لالچی اور دنیا کے طالب تھے اور اس کے لیے ہر مکروفریب روارکھا اور یزید کی بیعت سے آخری کیل بھی ٹھونک دی۔ جو کہتے ہیں کہ معاویہ نے اجتہاد کیا نیک نیتی سے غلطی کھا گئے تو یہ لوگ یا تو جاہل ہیں یا گمراہ ہیں جو اپنی خواہشات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ اے اللہ میں تجھ کو اپنے اس عقیدے پر گواہ
 بناتا ہوں۔"

کتاب العلم الشامخ امام صالح بن مہدی مقبلی صفحہ:366